سائیٹ کے بارے میں بعض تفصیلات     
 

 سعودیہ کی یہ" کرامہ"  تحریک  قانون دانوں پر مشتمل  نظر آرہی ہے  جو اپنی جنگ قانونی ہتھیاروں سے  لڑیں گے جس کا اکثر  فقدان ملتا ہے۔  ہماری اکثر مسلمان  تحریکوں میں قانون شکنی ملتی ہے۔  مثلاً ہم توڑ پھوڑ کرکےاحتجاج کرتے ہیں  تو  پھر ہم مجرم قرارپاتے ہیں  تو ہماری بات کوئی  نہیں سنتا ہے  مگر اگر مسلمہ قانونی دائرے کے تحت  تحریک چلائی جائے حقیقت میں ایسی ہی تحریک  اسلامی تحریک  کہلائی گی   جو اسطرح مہذب انداز میں اپنی لڑائي لڑیں گے۔

 یہ مائیکل ڈی انڈریا[Michael D'Andrea] کا گیم پلان کا حصہ ہے  جو سی آئی اے[CIA]کے اسکےانچار ج ہیں ،تو انہوں نے ایک تکون بنایا ہے؛ اسرائیل ،امریکہ اورسعودی عرب ۔طاقتوراسٹریٹجی سی آئی اے  امریکہ کی اور میدانی کاروائي اسرائیل کی ہے اورانویسمنٹ پیسہ سعودی عرب  کا کارفرما رہاہے۔

 ان شااللہ جو اسلامی انقلاب ایران نے  حریت کا پیغام دیا، اس یقین کےراستے کو واضح کیا ہموار کیا کہ  حتیٰ غیر مسلمانوں کے اندر بھی یہ یقین پیدا  ہوگیا کہ امریکہ کوئی چیز نہیں ہے ۔صرف اپنی صلاحیت اپنے امکانات پہ بھروسہ کرنا ہے، اپنی عوام پر بھروسہ کرنا ہے اس میں کامیابی کا راز ہے،نہ کہ ہمیں امریکہ حمایت کرے تب کامیابی ہوگی۔سب کو یقین ہونے لگا ہے کہ یہ تھوری ہی غلط ہے۔ اسطرح یقیناً امریکہ کے خلاف  جو ایک سوچ بنی یہ انقلاب اسلامی  ایران کی دین ہے  جس کا نتیجہ ہم ابھی دیکھ رہے ہیں ۔

آل سعود کی شباہت بالکل ویسی ہی ہے کہ جیسی ایران کے شاہ کی تھی وہ یوں کہ اُن کا نہ اللہ پر بھروسہ تھا اور نہ اپنے عوام پر بلکہ اسی امریکہ اور دوسرے اس کے ناجائز اولاد اسرائیل پر اور یہی حشر ہے اسی سعودی عرب کے ناپختہ ولیعہد کا اُس کو نہ اللہ پر یقین ہے نہ بھروسہ اور نہ ہی اپنے عوام پر ، عوام کا تو سر پھوڑتا رہتا ہے اور اس کو صرف یقین ہے امریکہ کے دبدبے پر اور اس کے ناجائز اولاد اسرائیل کی سازشوں پر اور جو حشر شاہ ایران کا ہوا اور اسے بھی کئی بدتر آل سعود کا ہونے جارہا ہے اور یہ اس کی واضح علامت ہے۔

 معصوم یعنی ہر غلطی سے پاک ،یعنی مکمل انسان اور مکمل انسان کا جانشین بھی مکمل انسان یا مکمل انسان کہلانے کا حقدار انسان ہونا لازمی ہے نہیں تو ظلم ہوگا۔

 سید مقتدیٰ صدر کو ئی معمولی شخصیت نہیں ہیں عراق کے ہر دلعزیز عالم دین ہیں اور مرد میدان مجاہد ہیں۔ تو اُن کے اشارے پہ عراق میں کیا کچھ نہیں ہوسکتا ہے یہ پوری دنیا جانتی ہے۔ اسی لئے ایسی شخصیت کا سعودی عرب میں آنا یہ ایک نیک شگون ہے ۔ یہ اچھی علامت ہے کہ سعودی عرب کو شیعوں کی طاقت کا اندازہ ہورہا ہے کہ وہ کسی بھی شکل میں اُن سے ٹکر لینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث ہے جس میں امام فرماتے ہیں: ’’ تدخل بشفاعتھا شیعتی فی الجنۃ‘‘ فاطمہ معصومہ کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں داخل ہوں گے ۔یہ فضائل و کرامات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکے بلند وبالا مقام کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

ہم بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت پر اپنے آنسو بہا کر دراصل امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے آنسون سے ملانا چاہیں گے۔اور دعا کریں کہ اللہ ہمیں اپنے کردار سے ، اپنے ارادے میں بدلاؤ لانے کی نیت سے اُن تعلیمات پر عمل کرنے کیلئے جن کیلئے یہ پاک خون بہا ہے پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے تاکہ یہ اسلام کا درخت ہمیشہ صدا بہا رہے۔

 جو آج آل سعود کی طرف سے 1926ء میں جنت البقیع کو انہدام کرنے کے سلسلے میں احتجاج درج کیا جا رہا اس دن آل سعود نے نہ صرف جنت البقیع کو منہدم کیا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضے کو بھی منہدم کرنا چاہا تھا ۔

ایران نے اُس جگہ کو ہدف بنایا جو داعش کا نیا نام نہاد دارالخلافہ بننے جا رہا ہے جسے "رقہ" سے دیرازور منتقل کیا جا رہا تھا اور جن کے بغل میں امریکی ائير بیس بھی ہے  کو نشانہ بنایا۔اور ایسی کاروائی جس کی ابھی تک کوئی مثال نہیں ملتی وہ یوں  کہ ایک ملک دوسرے ملک کے آسمان کو استعمال کر کے تیسرے ملک میں اپنے دشمن کے ٹھکانے کو نشانہ بناتا ہے اور بالکل انیس بیس کے فرق کے بغیر ٹھیک نشانہ بنانا ہے۔

1 2 3 
 
سه شنبه 3 بهمن 1396
جستجو در سایت
 
 
آمار سایت
 
مشاهده کل : 841090 نفر
مشاهده امروز: 1150 نفر
افراد آنلاین: 1442 نفر
مشاهده دیروز: 972 نفر
مشاهده ماه پیش: 32457 نفر
 
کلیه حقوق معنوی این وب سایت متعلق است به هر گونه کپی برداری با ذکر مطلب بلامانع میباشد.
قدرت گرفته از سایت ساز سحر