سائیٹ کے بارے میں بعض تفصیلات     
 
ولی فقیہ کون؟

ولی فقیہ  کا دائرہ اختیار اسلام اور امت اسلامی ہے اور چونکہ دور حاضر میں امت اسلامی جغرافیائی اور سیاسی سرحدوں میں تقسیم ہے اسلئے ولی فقیہ کے حکومتی احکامات از جملہ عزل و نصب ،تخفیف سزاء و غیرہ ایران کے لئے محدود ہے لیکن عمومی اسلامی اور اجتماعی احکامات کیلئے کوئی محدود دائرہ نہیں بلکہ وہ تمام انسانوں کیلئے بالعموم اور شیعوں کے لئے بالخصوص حجت ہے۔

بسمہ تعالی

1.     ولی فقیہ کون؟

2.     ولایت فقیہ کیا ہے؟

3.     کیا ولی فقیہ کو ولایت مطلقہ حاصل ہے؟

4.     جو ولی فقیہ کی ولایت کا منکر ہو کیا اسے شیعہ سمجھا جا سکتا ہے ؟

5.     ولی فقیہ کا دائرہ اختیار کیا ہے؟

سلام علیکم؛

متذکرہ بالا 5 سوالات کی روشنی میں عرض ہے کہ ؛

موجودہ دور میں ولی فقیہ وہ موضوع نہیں کہ جس کے بارے میں لغت و اصطلاحات اور سند  کے اعتبار کی روشنی میں بحث کی جائے کیونکہ یہ موضوع ان مراحل کو طے کر چکا ہے اور شیعہ و سنی مجتہدین و مفتیان پر مشتمل مجلس خبرگان رہبری کمیٹی جو کہ ولی فقیہ پر نظارت و حراست کی ذمہ دار ی رکھتی ہے، موضوع ولایت فقیہ کے تمام فقہی زوایا پر سیر حاصل بحث کر چکے ہیں اور کئی جلدوں پر مشتمل کتابیں اس حوالے سے شائع ہو چکی ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ  ولی فقیہ سے مراد جمہوری اسلامی ایران( جو کہ دور حاضر میں اکلوتی اسلامی حکومت ہے) میں  اسلام شناس مدیر و مدبر سربراہ  حاکم شرع کے لئے استعمال ہونے والا عنوان ہے:

ولی فقیہ کون؟

امام خامنہ ای ولی فقیہ ہیں۔

دور حاضر میں دنیا بھر میں اکلوتا ولی فقیہ جمہوری اسلامی ایران کا قائد حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی امام خامنہ ای مدظلہ العالی ہیں کہ جن کے نام اور کام سے ہر شیطان صفت انسان بالعموم اور امریکہ اور اسرائیل بالخصوص لرزہ بر اندام نظر آتے ہیں۔جو کہ غیبت امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دور میں حکم حضرت مسلم سید الشہداء امام حسین علیہ السلام رکھتے ہیں۔

ولایت فقیہ کیا ہے ؟

ولایت فقیہ یعنی اسلامی حکمرانی اور نبوت و امامت کی غیر معصوم عوامی انتخابی کڑی کی شیعہ اثناعشری اصولی تفسیر ہے۔

کیا ولی فقیہ کو ولایت مطلقہ حاصل ہے؟

جی ہاں؛ مرحوم ولی فقیہ حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے بقول ولی فقیہ  کی ولایت، نبوت و امامت کی کڑی ہے۔

جو ولی فقیہ کی ولایت کا منکر ہو کیا اسے شیعہ سمجھا جا سکتا ہے ؟

جی ہاں؛ ولی فقیہ چونکہ عوامی انتخابی منصب ہے اسلئے ولی فقیہ کی مخالفت کرنے سے ایسا شیعہ، شیعہ دائرے سے خارج نہیں ہوجاتا ہے۔

ولی فقیہ کا دائرہ اختیار کیا ہے؟

ولی فقیہ  کا دائرہ اختیار اسلام اور امت اسلامی ہے اور چونکہ دور حاضر میں امت اسلامی جغرافیائی اور سیاسی سرحدوں میں تقسیم ہے اسلئے ولی فقیہ کے حکومتی احکامات از جملہ عزل و نصب ،تخفیف سزاء و غیرہ ایران کے لئے محدود ہے لیکن عمومی اسلامی اور اجتماعی احکامات کیلئے کوئی محدود دائرہ نہیں بلکہ وہ تمام انسانوں کیلئے بالعموم اور شیعوں کے لئے بالخصوص حجت ہے۔

والسلام علیکم و رحمت اللہ

عبدالحسین

agaabdulhussain@gmail.com

+989013287845


ولایت فقیه اور اسلامی اتحاد

ولایت فقیه/ دینی و مذھبی حاکمیت

تاریخ درج مطلب : : //

آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
 
سه شنبه 3 بهمن 1396
جستجو در سایت
 
 
آمار سایت
 
مشاهده کل : 841074 نفر
مشاهده امروز: 1134 نفر
افراد آنلاین: 1433 نفر
مشاهده دیروز: 972 نفر
مشاهده ماه پیش: 32457 نفر
 
کلیه حقوق معنوی این وب سایت متعلق است به هر گونه کپی برداری با ذکر مطلب بلامانع میباشد.
قدرت گرفته از سایت ساز سحر